117

کیا 14 اگست کی یہ ویڈیو پلانٹڈ ہے؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مینار پاکستان پر گریٹر اقبال پارک میں یوم آزادی کے موقع پر ایک بڑے ہجوم نے اکیلی لڑکی کو ہراساں کیا۔ یہاں تک کہ اس کے کپڑے پھاڑ کر اسے برہنہ کردیا۔ جب پولیس موقع پر پہنچی تو متاثرہ لڑکی نیم بیہوشی کی حالت میں پڑی ہوئی تھی۔

عائشہ اکرم نامی ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کی یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو بہت سے لوگوں نے “وکٹم بلیمنگ” شروع کردی اور متاثرہ لڑکی کو ہی برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے تو متاثرہ لڑکی پر سستی شہرت کا الزام بھی دھر دیا اور کہا کہ یہ سارا واقعہ ہی پلانٹڈ تھا کیونکہ عائشہ اکرم نے خود ہی اپنے پرستاروں کو بلایا تھا۔
سوشل میڈیا پر بلیم گیم کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور ایسے میں ہراسانی کے واقعے کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے۔ یہ ویڈیو بھی 14 اگست پر یومِ آزادی کے موقع پر بنائی گئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو لڑکیاں چنگ چی رکشے میں بیٹھی ہیں کہ ایسے میں متعدد موٹرسائیکل سوار نوجوان ان کا پیچھا کرنے لگتے ہیں۔ ان میں سے ایک اوباش موٹر سائیکل سے اترتا ہے اور رکشے میں سوار لڑکی کا زبردستی بوسہ لے کر فرار ہوجاتا ہے۔ جب یہ سارا واقعہ رونما ہو رہا ہوتا ہے تو سڑک پر ہزاروں لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن کوئی بھی اتنی ہمت نہیں کرتا کہ ان لڑکیوں کی مدد کرسکے یا موٹر سائیکل سوار اوباشوں کا راستہ روک سکے بلکہ کئی لوگ اس واقعے کی ویڈیو بناتے ہوئے نظر آئے۔کھلے عام ہراسانی کی یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر وکٹم بلیمنگ کرنے والوں سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا رکشے میں بیٹھی ان لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو بھی پلانٹڈ ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں