186

پیارے امریکا

نومبر کا مہینہ تمام ہونے کو ہے، یہ وہی دن ہیں جب نوبیل انعامات کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ایسے میں بے اختیار کینیڈین شہری مارگریٹ ایڈ ووڈ کی یاد آتی ہے جس کے بارے میں اس کے مداحوں کا خیال ہے کہ اسے بہت پہلے نوبیل امن انعام مل جانا چاہیے تھا۔

آیے!کچھ دیرکو یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن اور ابراہم لنکن زندہ ہوگئے ہیں اور ان کے سامنے گزشتہ ساٹھ ستر برس کے امریکی حکمرانوں کی کارگزاری رکھ دی گئی ہے۔ انھیں جاپان پر ایٹمی حملے، کوریا، کمپوچیا، ویتنام، نکارا گوا، چلی، ال سلواڈور اور پناما میں امریکی مداخلت اور خوں ریزی کی کہانیاں سنادی گئی ہیں، انھیں 7 اکتوبر 2001 سے آج کے لمحے تک افغانستان اور عراق پر ظالمانہ حملے اور ناجائز قبضے کی تمام فلمیں دکھا دی گئی ہیں ۔

ان لوگوں نے ان حملوں کے بارے میں صدر امریکا سے لے کر وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے اہم ذمے دار سرکاری اہلکاروں کے بیانات پڑھ لیے ہیں ۔ انھوں نے باجوڑ اور اس سے پہلے کی بمباریوں میں ہلاک ہونے والے بے گناہوں کی چارپائیوں پر رضائیاں اوڑھ کر لیٹی ہوئی لاشیں اور پارہ پارہ بدن دیکھ لیے ہیں ۔ انھوں نے امریکا کے ’دستِ حق پرست‘ پر بیعت کرنے والے سب سے بڑے اتحادی کی شان میں امریکی صدرکی داد و تحسین سن لی ہے اور قصیدے پڑھ لیے ہیں اور ہاں انھوں نے ابوغریب اور گوانتا ناموبے میں امریکی فوجیوں کی ’بے مثال کارگزاریوں‘ کی ویڈیو کلپس دیکھ لی ہیں۔

آیئے! ہم سوچتے ہیں کہ اس ’امریکی کارگزاری‘ سے آگاہ ہونے کے بعد ان قائدین امریکا کا کیا حال ہوسکتا ہے؟

میرے خیال میں اگر یہ سب کچھ ممکن ہوتو یہ لوگ حیرت اور صدمے سے شاید جاں بر نہ ہوسکیں اور دوبارہ ان کی روحیں عالم بالا کو پرواز کر جائیں۔ اس کا بھی مجھے یقین ہے کہ اگر یہ پھر سے زندہ کیے جائیں تو یہ تینوں اعلان کردیں گے کہ کسی دوسرے ملک کا نام ’ امریکا ‘ رکھ دیا گیا ہے کیونکہ ہم نے جس امریکا کی بنیاد رکھی تھی، انصاف، آزادی، مساوات اور جمہوریت اس کے بنیادی ستون تھے، ہم نے کسی غاصب اور استحصالی ملک کا تصور بھی نہیں کیا تھا اور جب انھیں یقین دلایا جائے گا کہ یہ ان ہی کا امریکا ہے تو وہ شاید اپنے امریکی ہونے سے انکار کردیں یا شاید بیسویں صدی کے بیشتر امریکی سیاستدانوں اور مدبروں کو عاق کرنے کا اعلان کردیں اور اپنا گریباں چاک کرکے جنگل و صحرا کا رخ کریں۔

4 جولائی 1886کو امریکی سیاستدانوں اور جرنیلوں نے ایک خوں ریز عوامی جدوجہد کے بعد جب برطانیہ کے نوآبادیاتی چنگل سے نجات حاصل کی تھی تو امریکی خواص اور عوام دونوں نے اس کی بھاری قیمت ادا کی تھی ۔ اسی زمانے میں ’’ نئی دنیا ‘‘ کی اصطلاح رائج ہوئی تھی ۔ امریکیوں کا کہنا تھا کہ انقلاب امریکا سے پہلے جو دنیا تھی وہ ’’پرانی دنیا‘‘ تھی اور اب ہم ایک ’نئی دنیا‘ کی تشکیل کررہے ہیں۔ انقلاب برپا کرنے والے ان امریکی رہنماؤں نے ’اعلان آزادی‘ کے ابتدائی حصے میں لکھا تھا:

’’ہم ان حقائق کو حتمی سمجھتے ہیں کہ تمام انسان یکساں حیثیت کے ساتھ پیدا ہوئے اور خالق نے انھیں بعض ایسے حقوق دیے جو قطعاً چھینے نہیں جاسکتے۔ ان حقوق میں زندگی، آزادی اور سعی راحت شامل ہیں۔ ان ہی حقوق کے حصول کے لیے انسانوں کے درمیان حکومتیں بنتی ہیں۔ وہ اپنے تمام جائز اختیارات شہریوں کی رضا مندی سے حاصل کرتی ہیں۔ چنانچہ جب حکومت کی کوئی شکل ان مقاصد کے لیے تباہی کا باعث بن جاتی ہے تو لوگوں کا حق ہے کہ اسے بدل دیں یا ختم کردیں اور اس کی جگہ نئی حکومت قائم کرلیں۔‘‘

امریکی اعلان آزادی ایک شاندار دستاویز ہے لیکن افسوس کہ اس کی روح کئی دہائیوں پہلے پرواز کرچکی اور آج امریکا ایک ایسی استبدادی اور استعماری قوت ہے جو دنیا کی کمزور ترین قوم کو بھی پوری قوت سے کچلنے کو بہادری اور ایک کارنامہ خیال کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو انقلاب امریکا ناکام ہوچکا ہے۔ یہ انقلاب اس لیے رونما ہوا تھا کہ اس زمانے کے امریکیوں نے آزادی، مساوات اور عالمی برادری کا ایک خواب دیکھا تھا لیکن اب وہ خواب ان لوگوں کے قبضے میں ہے جو ساری دنیا کو اپنے مفادات کی عینک سے دیکھتے ہیں اور جن کا خیال ہے کہ دنیا کے دیگر تمام ملک اور تمام قومیں ا س لیے ہیں کہ وہ امریکا کی چاکری کریں۔

انقلابِ امریکا کی اس ناکامی نے صرف تیسری دنیا ہی نہیں، پہلی دنیا کے بھی بہت سے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کو ششدر کردیا ہے۔ یہ لوگ امریکی اعلانِ آزادی کو یاد کرتے ہیں اور اپنے سر پر خاک ڈالتے ہیں ۔ تحریروں، تقریروں، مذمتی بیانات کے اس ہجو م میں مجھے کینیڈا کی مشہور ادیب مارگریٹ ایٹ ووڈ کی یاد آتی ہے۔

اس نے ’امریکا کے نام ایک خط‘ لکھا۔ اس خط نے کینیڈا، امریکا اور برطانیہ میں تہلکہ مچا دیا، وہ لوگ جو مارگریٹ ایٹ ووڈ کی تحریروں کے دلدادہ ہیں، انھوں نے مارگریٹ ایٹ کی اس تحریر کی بھی بے حد داد دی لیکن ناقدینِ کرام نے سر پکڑ لیا۔ وہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ اسے چند برسوں کے اندر ادب کا نوبل انعام مل جائے گا لیکن نوبل انعام لینے کے لیے کبھی کبھی زبان پر تالے ڈالنے پڑتے ہیں اور قلم کو لگام دیتی ہوتی ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ مارگریٹ ایٹ ووڈ نے اپنے ان ناقدوں کو کیا جواب دیا، لیکن اس کی بعض تحریروں سے یہی اندازہ ہوا کہ اسے اپنے قلم کی حرمت، نوبل ادبی انعام سے کہیں زیادہ عزیز ہے۔ امریکا کے نام مارگریٹ نے یہ خط دو یا شاید تین برس پہلے لکھا تھا، اس خط کا آغاز کچھ یوں ہوا ہے:

’پیارے امریکا : تمہیں یہ خط لکھنا مشکل ہورہا ہے اس لیے کہ اب مجھے یقین نہیں رہا ہے کہ تم کون ہو۔

ہم میں سے بعض دوسرے لوگوں کو بھی اسی مشکل کا سامنا ہوگا۔ میں سمجھتی ہوں کہ میں تمہیں جانتی ہوں: ہم پچھلے 55 برس میں ایک دوسرے سے مانوس ہوچکے تھے۔ تم مکی ماؤس اور ڈونلڈ ڈک کی وہ کامک بکس تھے جو میں نے 1940 کی دہائی کے اواخر میں پڑھیں۔ تم میرے پسندیدہ ریڈیو پروگرام تھے۔ تم وہ موسیقی تھے جس کے ساتھ میں گاتی اور رقص کرتی تھی۔ تم میرے لیے بے پناہ خوشی اور لطف کا سبب تھے۔

تم نے میری چند پسندیدہ کتابیں لکھیں۔ تم نے ہکل بری فن اور ہاک آئی اور ’لٹل وومن‘ کی بیتھ اور جو کو تخلیق کیا۔ اس کے بعد تم میرے چہیتے تھورو تھے، بابائے ماحولیات، انفرادی ضمیر کا گواہ اور والٹ وہٹمن، عظیم جمہوریہ کا مغنی اور ایملی ڈکنسن، تنہائی کی روح کی پاسبان ، تم ہیمٹ اور شینڈلر تھے، اندھیری گلیوں سے گزرنے والے بہادر، اس کے علاوہ تم ہیمنگ وے، فٹنرجیزلڈ اور فاکنر جیسے تین حیرت انگیز شاعر اور ادیب تھے جنہوں نے تمہارے دل کی پوشیدہ اور اندھیری بھول بھلیاں کے نقشے ابھار کر واضح کیے۔ تم سنکلیر لیوس اور آرتھر ملر تھے جو اپنے اپنے امریکی آدرش لے کر تمہارے اندر موجود تصنع اور ریاکاری کے پیچھے پڑے رہے، اس لیے کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ تم اس سے بہتر ہوسکتے ہو۔

تم ’ان دی وار فرنٹ‘ کے مارلن برانڈو تھے، تم ’کی لارگو‘ کے ہمفرے بوگارٹ تھے، تم ’نائٹ آف دی ہنٹر‘ کی للین گش تھے۔ تم آزادی، ایمان داری اور انصاف کے مبلغ تھے۔ تم معصوموں کے محافظ تھے۔ میں ان سب باتوں پر یقین رکھتی تھی۔ میرے خیال میں تم بھی رکھتے تھے۔ اس وقت یہی سچ لگتا تھا۔

تم امریکی آئین کی جڑکاٹ رہے ہو۔ نئی آئینی ترمیم کے بعد اب یہ ممکن ہے کہ آپ کے گھر میں آپ کی مرضی یا اجازت کے بغیر داخل ہوا جاسکے، آپ کو کسی سبب کے بغیر پکڑا اور نظر بند کیا جاسکتا ہے، آپ کی ڈاک کھول کر پڑھی جاسکتی ہے، آپ کی نجی دستاویزات کی جانچ پڑتال ہوسکتی ہے۔ یہ وسیع پیمانے کی کاروباری چوری، سیاسی دھمکی اور جعل سازی کی ترکیب کے سوا اور کیا ہے؟

تم پر قرض کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ تم اسی طرح خرچ کرتے رہے تو پھر بہت جلد وہ وقت آجائے گا، جب تم اتنے بڑے فوجی ایڈونچر کا بوجھ برداشت نہیں کرسکوگے، تم اپنی معیشت میں آگ لگا رہے ہو ۔ پھر کچھ ہی عرصے بعد تمہارے پاس اپنے مسائل کا ایک یہی حل ہوگا کہ خود کوئی چیز پیدا نہ کرو بلکہ دوسرے لوگوں کی صنعت و حرفت پر چھین چھپٹ کر اور ’گن ڈپلومیسی‘ کی قیمت پر سب کچھ حاصل کرلو۔

اگر تم اس پھسلواں ڈھلان پر یوں ہی آگے بڑھتے رہے تو پھر ساری دنیا کے لوگ فیصلہ کرلیں گے کہ پہاڑ پر بسا ہوا تمہارا شہر ایک گندی بستی ہے اور تمہاری جمہوریت ایک دھوکا۔ وہ سمجھیں گے کہ تم نے قانون کا احترام چھوڑدیا ہے۔ وہ سمجھیں گے کہ تم نے اپنا آشیانہ خود ہی برباد کر ڈالا ہے۔‘

مارگریٹ ایٹ ووڈ کا یہ خط اگر جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن اور ابراہم لنکن پڑھ لیں تو وہ شاید خودکشی کرنا چاہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ عالم بالا میں خودکشی نہیں کی جاسکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں