150

مندر کی توڑ پھوڑ پر ازخودنوٹس ،سپریم کورٹ کا واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا حکم

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ نے رحیم یار خان میں مندر کی توڑ پھوڑ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت 13اگست تک ملتوی کردی۔سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ واقعے میں جو چیزیں استعمال کی گئیں وہ بر آمد کی جائیں اورملوث افراد کوگرفتار کیا جائے جبکہ مندر کی بحالی کے اخراجات بھی ملزمان سے وصول کرنے کا حکم دیا گیا۔

نجی ٹی و ی ہم نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس قاضی امین نے رحیم یار خان میں مندر کی توڑ پھوڑ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے مندرکی توڑ پھوڑ سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ۔چیف جسٹس گلزا ر احمد نے ریما رکس دئیے کہ پولیس نے 8سالہ بچے کو گرفتار کرکے اس کا جوڈیشل ریمانڈ لیا،کیا ایس یچ او کو علم نہیں تھا کہ جس کوانہوں نے گرفتارکیا وہ بچہ ہے ،8سالہ بچے کو مذاہب کاکیاپتہ؟ ۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ جس بچے کو گرفتار کیا گیا اس کو ایس ایچ او بھی ضمانت پر رہا کرسکتا تھا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ بچے کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا اورسیکیورٹی بھی دی ہے، واقعے کے بعد پولیس افسر پاکستان ہندو کاونسل رہنما رمیش کمارسے رابطے میں تھا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ جس ایس ایچ او نے بچے کو گرفتار کیا اس کو نوکری سے فارغ کردینا چاہیے جس پر پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کو معطل کردیں گے۔ چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ پولیس والے کو معطل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا،معطلی کے بعد صرف کمائی بند ہو جاتی ہے وہ سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دندناتے پھرتے ملزمان ہندوکمیونٹی کیلئے مسائل پیداکرسکتے ہیں، یقینی بنایا جائے آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

بعدا زاں عدالت عظمیٰ نے آئی جی اورچیف سیکرٹری سے ایک ہفتے میں پیشرفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 13اگست تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں