120

طالبان کو بڑا جھٹکا، تین اضلاع چھین لیے گئے

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغانستان کے شمالی صوبے بغلان میں مزاحمتی قوتوں نے طالبان سے تین اضلاع کا قبضہ چھین لیا۔ طالبان کے ہاتھ سے نکلنے والے اضلاع میں پلِ حصار، بنو اور دہ صلاح شامل ہیں۔

افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز نے مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تینوں اضلاع میں شدید لڑائی ہوئی جس میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔

ضلع بنو کے سابق پولیس چیف اسداللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اللہ کی نصرت کے ساتھ تین اضلاع کو طالبان سے آزاد کرلیا ہے، وہ اب خنجان ضلع کی طرف بڑھ رہے ہیں اور بہت جلد بغلان صوبے کو مکمل طور پر آزاد کرالیں گے۔
صوبہ بغلان ہائی وے کے سابق پولیس کمانڈر انچارج غنی اندرابی کے مطابق عوامی مزاحمت نے طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے، اس وقت ضلع بنو مکمل طور پر عوامی مزاحمتی طاقتوں کے کنٹرول میں ہے۔

طلوع نیوز کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ بغلان صوبے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا جس کی وجہ سے عوامی سطح پر شدید رد عمل آیا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں مزاحمت شروع ہوگئی۔

طالبان کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے تینوں اضلاع کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کیلئے بھرپور تیاریاں شروع کردی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں