197

اپنے دل کی آواز سنو!

دنیا کے عظیم باکسر محمد علی کا قول ہے ” مجھے اپنی ٹریننگ کا ہر لمحہ برا لگتا تھا، لیکن میں نے سوچا کہ مجھے رکنا نہیں چاہیئے۔ میں آج تکلیف اٹھاؤں گا تو ساری زندگی چیمپئن کہلاؤں گا”۔

یہ قول پڑھنے میں بہت سادہ اور آسان ہے لیکن اس فقرے میں چھپی اہمیت صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو اپنے ساتھ ساتھ اپنےخاندان ، معاشرے اور ملک وقوم کی بہتری اور ترقی کےلیے دکھ اور تکالیف سہتے ہیں اور آگے بڑھ کر منزل پانے کی جدوجہد میں ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں کیونکہ انہیں بہتر سے بہترین کر گزرنے کا جنون سوار ہوتا ہے۔چاہے وہ بکھر جائیں، تنہا ہو جائیں، ٹوٹ جائیں یا پھر مشکلات کے گھن چکروں میں پھنس جائیں، مگر کبھی بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور نہ ہی کبھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے تقدیر کے بدلنے اور اچھے وقت کا انتظار کرتے ہیں۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے نو برس پہلے زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کیا۔ یہ 2012 کی بات ہے جب میں نے ACCA(UK) کو ہمیشہ کے لیے خیرآباد کہہ دیا۔ یہ فیصلہ اس لیے بہت مشکل تھا کیونکہ تین سال سے اسلام آباد اور لاہور کے بہترین اداروں میں اسٹڈی کرتا رہا، اور اس ڈگری میں داخلہ لینے کا فیصلہ اپنے سکول کے بہترین دوست قاضی امجد کے کہنے پر کیا تھا۔اس نے تو دو تین دن میں اچھا فیصلہ کیا اور داخلہ لینے کے بعد ہی ACCA چھوڑدیا اور گریجویشن کرنے کا فیصلہ کر لیا۔لیکن مجھے برطانوی ڈگری کی دُھن سوار تھی اور میں اسی چکر میں اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا۔
یہ بات سچ ہے کہ میری طبیعت اور مزاج میں مادہ پرستی کا کیڑا نہیں ہے اور نہ ہی اکیس،بائیس سال کی عمر میں کوئی کمپنی بنانے یا بزنس کرنے کا ارادہ تھا۔ اس لیے مجھے اکاؤنٹس، حساب کتاب اور کمپنیز کا کوئی شوق تھا اور نہ ہی ان چیزوں میں کبھی دلچسپی پیدا ہوئی تھی۔
لیکن پھر بھی خود کو بہلا پھسلا کر گھسیٹتا رہا اور تین سالوں میں فیسوں اور اخراجات کی مد میں بیس سے پچیس لاکھ خرچ بھی کئے ۔ایک سچی بات جو قارئین کو بتانا لازمی ہے کہ دوران اسٹڈی میرا دل کبھی بھی مطمئن نہیں ہوا تھا۔شاید میرے جیسا انسان وہ کام اچھی طرح سرانجام دے سکتا ہے جس میں گہری دلچسپی ہو اور روح کو بھی سکون نصیب ہو۔
خیر 2012 میں کافی سوچ بچار کے بعد برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا تو شومئی قسمت کہ 2010/2011 میں پاکستان میں لگاتار سیلاب آنے سے ہمارا کافی مالی نقصان ہوچکا تھا، ساری فصلیں تباہ ہوچکی تھیں۔پہلے ہی والدین مجھ پر اتنا پیسہ لگا چکے تھے تو حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے دکھی دل سے برطانیہ تعلیم حاصل کرنے کا خیال ذہن سے نکال دیا اور پاکستان میں ہی ایم اے انگلش کرنے کی ٹھان لی۔یقین مانیں یہ زندگی کا مشکل ترین لیکن بہترین فیصلہ تھا۔جس کی بدولت مجھے تین سے چار سال دبئی میں انٹرنیشنل سطح پر سیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن یہ بہت کٹھن اور تلخ تجربات سے بھری ایک طویل داستان ہے جس کا ذکر پھر کبھی کرونگا۔

لیکن مجھے یاد ہے کہ جب انسان ایک فیلڈ سے نکل کر دوسری فیلڈ میں زیرو سے شروعات کرتا ہے تو کتنی کڑوی کسیلی باتیں اور طعنے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔سچ پوچھیں تو یہ زندگی کے مشکل ترین لمحات ہوتے ہیں جب انسان کو ہر جگہ سے دھتکارا جاتا ہے۔ہر طرف مایوسی کے بادل چھائے ہوتے ہیں، اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے اور امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ تب انسان اکیلا ہوتا ہے اور کوئی سمجھنے والا بھی نہیں ہوتا۔کیونکہ ہم معاشرتی و ظاہری طور پر مالی نقصان دیکھتے ہیں لیکن کسی طالبعلم یا زندہ انسان کی اپنی مرضی اور منشا کیا ہے ؟ اس پر کوئی غور نہیں کرتا۔
میرے ساتھ بھی ایسے ہی کچھ ہورہا تھا جو ہمارے معاشرے کے ہر تیسرے بچے کے ساتھ ہوتا ہے۔
لیکن میں ظاہری نقصان سے زیادہ اپنے مقاصد پر غوروفکر کرتا تھا۔کیونکہ بچپن سے مجھے اچھی کتابیں اور عظیم لوگوں کی سوانح حیات پڑھنے کا جنون تھا شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے میرے اندر ایک اعلیٰ سوچ اور بڑا بننے کا خواب تھا۔ کبھی حالات کی ستم ظریفی دیکھ کر زندگی کے فیصلے نہیں کیے بلکہ ہمیشہ دل کی آواز سنی۔ اس لیے فیملی اور دوست احباب کی مخالفت کے باوجود اپنے فیصلوں پر ڈٹا رہا۔
گو کہ یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں لیکن مجھے معلوم تھا کہ آج اگر دل کی آواز نہ سنی، ہمت ہار دی اور حوصلہ چھوڑدیا تو پھر زندگی شاید دوبارہ کبھی دل کی آواز سننے کا موقع نہ دے۔انسانی فطرت ہے اور تحقیق سے بھی ثابت ہے کہ جب انسان بنا کسی بڑے مقصد کے زبردستی کوئی بھی کام کرتا رہے ،چاہے وہ تعلیم ہو،دوستی اور تعلق ہو، شادی ہو،کیرئیر ہو، کوئی مشغلہ ہو، مذہبی عقائد ہوں یا پھر کوئی جاب اور بزنس ہو، ہم جب تک کوئی کام فیملی اور معاشرتی پریشر کی وجہ سے زبردستی خود پر تھوپتے رہیں گے تب تک ہم ڈپریشن، نفسیاتی امراض اور بے سکونی کا شکار رہیں گے۔اس لیے میں اپنی فیملی اور دوستوں میں دل کی آواز سننے والے اُن چند خوش قسمت لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے ہزارہا مخالفت کے باوجود دل کی آواز سنی اور اطمینان قلب پایا۔ کیونکہ اللہ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔

دوستو! میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ جب کبھی اپنی زندگی میں کوئی بڑا فیصلہ کرنے لگیں تو اس کے فوائد اور نقصانات لازمی لکھ لیا کریں۔اگر لکھ نہیں سکتے تو تصور کیا کریں، غوروفکر کیا کریں کہ میرے اس فیصلہ سے مجھے کیا نقصان متوقع ہے اور کیا فائدہ مل سکتا ہے۔اگر نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہو۔ تو آپ فیصلہ کرنے میں دیر مت کریں کیونکہ میں اگر ایک ماہ میں ہی فیصلہ کر لیتا تو خطیر رقم اور وقت کے ضیاع سے بچ جاتا۔
جب دل کی آواز سن لیں اور فیصلہ کر لیں تو ڈٹ جائیں، چاہے اس کے لیے آپ کو دن رات مشقت کرنی پڑے، فیملی کو ہاتھ جوڑ کر منانا پڑے یا پھر بھوکا بھی رہنا پڑے تو پھر بھی آگے بڑھتے رہنا اور ہار مت ماننا۔

اگر میں بھی سوچتا کہ برطانوی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ڈگری چھوڑنے سے میرا پیسہ،وقت سب ضائع جائےگا اور اسی ڈر میں رہتا کہ فیملی غصہ کرے گی اور بہت مسائل جنم لیں گے تو مجھ میں کبھی بہت بڑا فیصلہ کرنے کی ہمت، خود پر سو فیصد یقین اور زندگی زیرو سے شروع کرنے کا جذبہ پیدا نہ ہوتا۔اور آج میں مطمئن نہ ہوتا بلکہ دنیا کی نظر میں کامیابی حاصل کرکے بھی کڑھتا رہتا اور شاید کتاب لکھنے کا خیال تک نہ آتا۔

میرے پیارو!

جب آپ کو زندگی موقع دے تو اپنے دل کی آواز سننا اور خود پر یقین رکھنا کیونکہ خالق کائنات نے دنیا میں کسی بھی انسان کو بے وجہ پیدا نہیں کیا۔ہر انسان گوہر نایاب ہے بشرطیکہ وہ خود کو پہچان لے اور اپنے خوابوں کی تکمیل میں دن رات جُت جائے اور تب تک ہمت اور محنت کرتا رہے جب تک اس کے وجود سے فیملی یا معاشرے میں پھیلے اندھیروں میں امید کی کرنیں پیدا ہونا نہ شروع ہو جائیں۔

نئی آنے والی کتاب “یقین کی طاقت ” سے اقتباس

از
ساجد بھٹو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں